ابنا: رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی استعماری قوتیں گذشتہ دو برس سے شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر واویلا کر رہی ہیں، اب یہ حقائق دنیا کے سامنے واضح ہوچکے ہیں کہ یہ ہتھیار انہی قوتوں اور انکے گماشتوں نے حکومت اور مخالفین کو فراہم کئے ہیں۔
اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک کے بعد دوسرے مسلمان ملک پر فوجی یلغار اور جارحیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قبل ازیں انھوں نے عراق، افغانستان اور لیبیا پر مختلف بہانوں سے تباہی مسلط کی۔ وہاں کے عوام کا قتل عام کیا، وسائل کو لوٹا اور تباہ کیا۔ حال ہی میں مصر میں جمہوری اصولوں کے مطابق منتخب حکومت کا تختہ وہاں کی فوج نے امریکی اور صہیونی اشارے پر الٹ دیا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک عرصے سے امریکہ شام میں بھی فوجی مداخلت کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ عالمی استعماری قوتیں گذشتہ دو برس سے شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر واویلا کر رہی ہیں۔ اب یہ حقائق دنیا کے سامنے واضح ہو چکے ہیں کہ یہ ہتھیار انہی قوتوں او ر ان کے گماشتوں نے حکومت اور مخالفین کو فراہم کیے ہیں۔ ان کے استعمال کا پراپیگنڈہ شام کے خلاف جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لیے ہی کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ پیر سید محفوظ اللہ مشہدی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ قبل ازیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کرنے کے لیے بھی، وہاں پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا پراپیگنڈہ کیا تھا اور پھر عراق پر اندوہناک تباہی مسلط کر دی جس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ انسان قتل ہوئے اور عراق اقتصادی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا لیکن وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار دستیاب نہیں ہو سکے۔ اس حملے میں امریکہ نے اقوام متحدہ سے اجازت لینا بھی ضروری نہ سمجھا۔ آج امریکہ یہی کچھ شام کے خلاف بھی کرنا چاہتا ہے۔ اس مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ اس خطے اور اسلامی دنیا میں ا پنی مداخلت بند کرے، امریکہ اور اس کے اتحادی شام کے خلاف کسی بھی کارروائی سے باز رہیں۔ یہ امر باعث تاسف ہے کہ او آئی سی اس معاملے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں تامل کر رہی ہے۔ تمام مسلم ممالک کو مل بیٹھ کر اپنے مسائل خود حل کرنا چاہئیں۔ ہمیں اپنے مسائل حل کرنے کے لیے قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو مشترکات پر یکجا ہونا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ استعماری طاقتیں اس وقت ناجائز صہیونی ریاست کے دفاع اور اپنے طاغوتی مقاصد کے حصول کے لئے بے گناہ مسلمانوں کا خون بطور ایندھن استعمال کر رہی ہیں۔
پیر سید محفوظ اللہ مشہدی کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ سمیت تمام غیر ملکی افواج مسلمان خطوں سے نکل جائیں اور اپنے اپنے ملکوں میں واپس چلی جائیں۔ یہ افواج، ان کے بحری بیڑے اور اڈے اگر ان خطوں سے نکل جائیں تو یقینی طور پر یہاں امن قائم ہو جائے گا، کیونکہ یہ اپنے استعماری مقاصد کے حصول اور جدید اسلحوں کو بیچنے اور ان کے تجربات کے لیے مظلوم قوموں اور ان کی سرزمینوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اس اہم پریس کانفرنس میں پیر سید محفوظ مشہدی اور ثاقب اکبر چیئرمین البصیرہ کے علاوہ پیر سید ہارون علی گیلانی سیکرٹری جنرل تحریک فیضان اولیاء، نذیر جنجوعہ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب، سید محمد معصوم نقوی صدر جمعیت علمائے پاکستان نیازی، علامہ ابوذر مہدوی مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم، مولانا محمد خان لغاری سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان سواد اعظم، پیر سید محمد عثمان نوری صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب، ڈاکٹر امجد حسین جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے پاکستان نیازی، صاحبزادہ خادم حسین شرقپوری سیکرٹری مشائخ اہلسنت، مولانا محمد افضل باجوہ نائب امری تحریک فدایان امت، سید واجد گیلانی صدر تحریک فدایان امت، محمد غیاث الدین ایم پی اے پاکستان مسلم لیگ (ن) سید نثار علی ترمذی ڈائریکٹر البصیرہ لاہور، علامہ امتیاز عباس کاظمی سیکریٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم لاہور، پیر اختر رسول قادری، صدر جمعیت علمائے پاکستان پنجاب اور دیگر اہم مذہبی و دینی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔
.......
/169